لوگ ہوتے ہیں بیشتر جیسے
بند کھڑکی کے ملگجے شیشے
جن کو سورج کی تیز چمکیلی
دھوپ دن بھر اجال رکھتی ہے
شام کے ساتھ ہی مگر ان کی
ملگجاہٹ بھی لوٹ آتی ہے
اور پھر صرف وہ چمکتے ہیں “جن کے اندر ہو روشنی اپنی
Life teaches us to live. To live, you have to exist. To exist, you should have a passport to this living world. Thanks to your parents, who brought you into this world.
Parents have taken care of us and satisfied all our needs. They helped whenever we were hungry, afraid or ill. They were always there by you, whenever you needed them. You almost assumed that they will always be there for you and never thought of how your life would be without them. But as you grow up, age also catches up with your parents and they need your help and support.
Man is a child first, after which he attains his youth. After youth he again goes through the second phase of childhood, also called as old age. This is the phase where everyone needs a comfort of a sense of belonging and being taken care of. Wouldn’t we all expect the same sense of security when we grow old? Even our parents are expecting us to be their caretaker, as they grow old. But they never make that obvious to us. They do their further duty by taking care of their grandchildren, paying e-bills, giving the clothes for laundry etc.
Isn’t it unfair on our part that we aren’t giving them what they need the most? It is our prime duty to take the very best care of them. It’s our pay back time. Lets give the same sense of emotional security, care and love to our parents in their old age.
Some of us mistreat our parents and consider them more of a liability than an asset. Some of us move away from them, though our conscience pricks us. We err in our duties for not being dutiful. This guilty feeling is further wrapped into a sense of regret, when we will be treated in the same way by our future generation. After all you only get what you deserve. Don’t you?
Let’s keep in mind that to be a manager, husband or father, we first have to be a son.
اقبال پر یہ اعتراض تجدید پسند حلقوں کی جانب سے اکثر کیا جاتا ہے کہ وہ عورت کو جدید معاشرہ میں اس کا صحیح مقام دینے کے حامی نہیں ہیں جبکہ انہوں نے اس باب میں تنگ نظری اور تعصب سے کام لیا ہے اور آزادی نسواں کی مخالفت کی ہے۔ یہ اعتراض وہ لوگ کرتے ہیں جو آزادی نسواں کے صرف مغربی تصور کوپیش نظر رکھتے ہیں اور اس معاشرتی مقام سے بے خبر ہیں جو اسلام نے عورت کو دیا ہے اقبال کے تمام نظریات کی بنیاد خالص اسلامی تعلیمات پر ہے اس ليے وہ عورت کے بارے میں وہی کچھ کہتے ہیں جس کی تعلیم اسلام نے دی ہے۔ چنانچہ اس سلسلہ میں اقبال کے خیالات کا جائزہ لینے سے پہلے آزادی نسواں کے مغربی تصور اور اسلامی تعلیمات کا مختصر تعارف ضروری ہے۔
آزادی نسواں کا مغربی تصور
مغرب میں آزادی نسواں کا جو تصور اُبھرا ہے وہ افراد و تفریظ کا شکا ر ہونے کے باعث بہت غیر متوازن ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک طویل عرصہ تک دیگر معاشروں کی طرح مغرب میں بھی عورت کو کسی قسم کا کوئی معاشرتی حق حاصل نہیں تھا اور اس کی حیثیت مرد کے غلام کی سی تھی۔ اسی ردعمل کے طور پر وہاں آزادی نسواں کی تحریک شروع ہوئی اور اس کی بنیاد مر دوزن کی مساوات پر رکھی گئی مطلب یہ تھا کہ ہر معاملہ میں عورت کومرد کے دوش بدوش لایا جائے ۔ چنانچہ معاشرت، معیشت ، سیاست اور زندگی کے ہر میدان میں عورت کو بھی ان تمام ذمہ داریوں کا حق دار گردانا گیا جواب تک صرف مرد پوری کیا کرتا تھا۔ ساتھ ہی عورت کو وہ تمام حقوق بھی حاصل ہوگئے جو مرد کو حاصل تھے ۔ اسی بات کو آزادی نسواں یا مساوات مرد وزن قرار دیا گیا ۔ اس کا نتیجہ اس بے بنیاد آزادی کی صورت میں برآمد ہوا کہ عورت تمام فطری اور اخلاقی قیود سے بھی آزاد ہو گئی۔
اسلامی تعلیمات
اسلام نے عورت کو مرد کے برابر حقوق چودہ سو سال قبل اس وقت دئیے تھے۔ جب عورت کے حقوق کا تصور ابھی دنیا کے کسی بھی معاشرہ میں پیدا نہیں ہوا تھا۔ عورت اور مرد کی مساوات کا نظریہ دنیا میں سب سے پہلے اسلام نے پیش کیا اور اس طرح عورت کو مرد کی غلامی سے نجات دلائی جس میں وہ صدیوں سے جکڑی ہوئی تھی اس مساوات کی بنیاد قرآن مجید کی اس تعلیم پر ہے جس میں فرمایا گیا کہ
کبوتر بڑے کام کا جانور ہے۔ یہ آبادیوں میں جنگلوں میں، مولوی اسمعیل میرٹھی کی کتاب میں غرض یہ کہ ہر جگہ پایا جاتا ہے ۔ کبوتر کی دو بڑی قسمیں ہیں۔ نیلے کبوتراور سفید کبوتر، نیلے کبوتر کی بڑی پہچان یہ ہے کہ وہ نیلے رنگ کا ہوتا ہے سفید کبوتر بالعموم سفید ہی ہوتا ہے۔ کبوتروں نے تاریخ میں بڑے بڑے کارنامے انجام دیئے ہیں۔ شہزادہ سلیم نے مسماۃ مہر النساء کو جب کہ وہ ابھی بی بی نورجہان تھیں ۔
کبوتر ہی تو پکڑایا تھا جو اس نے اڑا دیا اور پھر ہندوستان کی ملکہ بن گئی۔ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ اس سارے قصے میں زیادہ فائدے میں کون رہا؟ شہزادہ سلیم؟ نورجہاں؟ یا وہ کبوتر؟ رعایا کا فائدہ ان دنوں کبھی معرض بحث میں نہ آتا تھا۔ پرانے زمانے کے لوگ عاشقانہ خط و کتابت کے لئے کبوتر ہی استعمال کرتے تھے۔ اس میں بڑی مصلحتیں تھیں۔
بعد میں آدمیوں کو قاصد بنا کر بھیجنے کا رواج ہوا تو بعض اوقات یہ نتیجہ نکلا کہ مکتوب الیہ یعنی محبوب قاصد ہی سے شادی کرکے بقیہ عمر ہنسی خوشی بسر کر دیتا تھا۔ چند سال ہوئے ہمارے ملک کی حزب مخالف نے ایک صاحب کو الٹی میٹم دے کر بادشاہ ملک کے پاس بھیجا تھا۔ الٹی میٹم تو راستے میں کہیں رہ گیا۔ دوسرے روز ان صاحب کے وزیر بننے کی خبر اخباروں میں آ گئی۔ طوطے کے ہاتھ یہ پیغام بھیجا جاتا تو یہ صورت حال پیش نہ آتی -
عمیرہ احمد کہتی ہیں کہ ہر ایک مجھے میری کسی نہ کسی تحریر کا کوئی اقتباس ضرورلکھتا یا سناتا ہے جو اس کا پسندیدہ ہوتا ہے۔قارئین کی یہ عادت دلچسپ اور مشترکہ ہے اور اسی نے مجھے اپنی تحریروں کا ایک بار پھر سے جائزہ لینے پر مجبور کیا۔یہ کتاب انہی دلچسپ اقتباسات کا مجموعہ ہے۔
جو چیز اللہ نہ دے – اسے انسانوں سے نہیں مانگنا چاہیے ۔ ۔ ۔انسان بہت خوار ہوتا ہے ۔
من و سلوی~**~
بعض دفعہ چہرے دیکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔صرف آوازوں کی ضرورت ہوتی ہے کسی ایسی آواز کی جس میں ہمدردی ہو جو آپ کے وجود کے تمام ناسوروں کو نشتر کی طرح کاٹ پھینکے اور پھر بہت نرمی سے ہرگھاؤ کو سی دے- ~**~آؤ پہلا قدم دھرتے ہیں
آپ نے کبھی یہ سوچا ہے دنیا میں کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں ہم روپے سے نہیں خرید سکتے ۔ ۔ ۔جنہیں دعائیں بھی ہمارے پاس نہیں لاسکتیں اور آپ نے کبھی یہ سوچا ہے کہ بعض دفعہ وہ چیزیں ہی ہماری پوری دنیا ہوتی ہیں ۔ ۔ ۔ دل کی دنیا ۔ ۔ ۔ کیا انسان زمین پر دل کی دنیا کے بغیر رہ سکتا ہے ؟؟
کس جہاں کا زر لیا ~**~
کیا آپ کو پتا ہے ماماجان دنیا کتنی خوبصورت ہے؟؟ “ہاں میں جانتی ہوں دنیا کتنی خوبصورت نظر آتی ہے“ “کتنی خوشی ہوتی ہے نا ماما جان جب کسی دکان میں جائیں اور اس قابل ہوں کی وہاں موجود قیمتی چیز بھی خرید سکتے ہوں-“ “اور تمہیں پتہ ہے مریم دنیا میں سب سے سستی چیز کون ہے؟؟؟ خریدار“ “ماما جان کیا مجھے خوش نہیں ہونا چاہیے کہ مجھے وہ چیز مل گئی ہے جس سے مجھے محبت ہے؟؟ “تمہیں دعا کرنی چاہیے کہ تمہارے پاس وہ چیز رہے جس سے تمہیں محبت ہے“ ~**~لاحاصل
انسان کا مئسلہ یہ ہے کہ وہ جانے والی چیز کے ملال میں مبتلا رہتا ہے -آنے والی چیز کی خوشی اسے مسرور نہیں کرتی ایمان ،امید اور محبت ~**~
“جو لوگ دوسروں کے دلوں کو کانٹوں سے زخمی کرتے ہیں ان کے اپنے اندر کیکر اگے ہوئے ہوتے ہیں وہ چاہے یا نہ چاہے ان کے وجود کو کانٹا ہی بننا ہوتا ہے-وہ پھول نہیں بن سکتے”- ~**~لاحاصل
کوئی شخص اپنی بند مٹھیوں میں دھول لے کر آتا ہے اور آپ کی آنکھوں میں دھو ل پھینک کر چلا جاتا ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر شخص کی بند مٹھی میں دھول ہی ہو جس سے بچنے کے لئے آپ کو اپنی آنکھیں بند کرنی پڑیں
ایمان ،امید اور محبت~**~
دنیا وہ دو دھاری تلوار ہے جس پر ننگے پاؤں چلنا پڑتا ہے – چلنا ہی ہوتا ہے ۔ ۔ پیروں کو زخمی کرنے والی چیز سے کیسے محبت کرنے لگتے ہیں لوگ ؟؟؟ کیوں کرنے لگتے ہیں؟؟؟ ~**~لا حاصل
“ زندگی میں ایک چیز ہوتی ہے جسے کمپرومائز کہتے ہیں -پر سکون زندگی گزارنے کے لئے اس کی بہت ضرورت پڑتی ہے- جس چیز کو تم بدل نہ سکو اس کے ساتھ کمپرومائز کر لیا کرو مگر اپنی خوائش کو کبھی جنون نہ بنانا – کیونکہ زندگی میں کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو ہمیں کبھی نہیں مل سکتیں -
چاہے ہم روئیں ،چلائیں یا بچوں کی طرح ایڑیاں ر گڑیں وہ کسی دوسرے کے لیے ہوتی ہیں -
مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ زندگی میں ہمارے لئے کچھ ہوتا ہی نہیں کچھ نہ کچھ ہمارے لئے بھی ہوتا ہے “-
~**~امربیل
“محبت تاریک جنگل کی طرح ہوتی ہے ،، ایک بار اس کے اندر چلے جاؤ پھر یہ باہر آنے نہیں دیتی – باہر آ بھی جاؤ تو آنکھیں جنگل کی تاریکی کی اتنی عادی ہوجاتی ہیں کہ روشنی میں کچھ بھی نہیں دیکھ سکتیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔وہ بھی نہیں جو بالکل صاف اور واضح اور روشن ہوتا ہے“- ~**~ایمان؛ امید اور محبت
“بعض دفعہ خاموشی وجود پر نہیں دل پر اترتی ہے پھر اس سے زیادہ مکمل، خوبصورت اور بامعنی گفتگو کوئی اور چیز نہیں کر سکتی اور یہ گفتگو انسان کی ساری زندگی کا حاصل ہوتی ہےاور اس گفتگو کے بعد ایک دوسرے سے کبھی دوبارہ کچھ کہنا نہیں پڑتا- – - -کچھ کہنے کی ضرورت رہتی ہی نہیں“۔ ۔ ۔
~**~لاحاصل
آپ کو پتا ہے اللہ مجھے کیوں نہیں مل سکتا ؟؟ میرے اور اللہ کے درمیان خوائشوں کی دیوار ہے- آسائشوں کی دیوار ہے-میں نے اپنے اردگرد دنیا کی اتنی چیریں اکٹھی کرلی ہیں کہ اللہ تو میرے پاس آہی نہیں سکتا جسے وہ اپنی محبت دے دیتا ہے اسے پھر کسی اور چیز کی ّ خوائش نہیں ہوتی ۔ ۔ ۔ ۔اور جسے دنیا دیتا ہے اس کی خوائش بھوک بن جاتی ہے جو کبھی ختم ہی نہیں ہوتی
شہرِ ذات~**~
“اسے اللہ سے خوف آرہا تھا ۔ ۔بے پناہ خوف – – وہ کس قدر طاقتور تھا کیا نہیں کر سکتا؟؟؟؟؟؟؟ وہ کس قدر مہربان تھا ۔ ۔ ۔ ۔کیا نہیں کرتا ۔ ۔ ۔انسان کو انسان رکھنا اسے آتا ہے- کبھی غضب سے کبھی احسان سے ۔ ۔وہ اسے دائرے میں رکھتا ہے“ ~**~پیر کامل
Everything you know is based on what has already happened in your life. And yet, your only influence right now is over things that have not yet happened. The things that have already happened have gotten you to where you are right now. What you need to be concerned with, however, is where to go from here.
Because you’re so intimately familiar with your own past, it may seem that you have no choice but to continue moving in the same direction as before. But that is not true. Your future does not equal your past. Right now, there are an infinite number of paths which you can take. The one you’re currently on is only one of them. Any of the rest are available to you.
If you’re completely satisfied with where you’re going, then by all means keep on going that way. But there is no reason in the world why you have to keep following that same path if it is not bringing you full and lasting fulfillment.
Every moment you have a choice, regardless of what has happened before. Choose right now to move forward, positively and confidently into your incredible future.
Recent Comments